ابنا: آٹھ سالہ دفاع مقدس کادور تین پہلوؤں سے اہمیت کاحامل ہے۔سب سے پہلے ان تمام لوگوں کی قدرشناسی کےلحاظ سے جنھوں نے جارح دشمن کے سامنے بےمثال ایثار و فداکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملت ایران کو عزت و سربلندی کا تحفہ پیش کیا۔اسی بنا پر اسلامی جمہوریہ ایران کےصدر ڈاکٹر حسن روحانی نے مقدس دفاع کی تینتیسویں سالگرہ کے موقع پر آج صبح بانی انقلاب اسلامی کے حرم مطہر کے جوار میں منعقدہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی پریڈ سے اپنےخطاب کےآغاز پر کہا کہ ہمیں ان مجاہدین کوخراج تحسین پیش کرنا چاہئے جو اس دور کے افتخارآفریں تھے اور دوسروں کوبھی عظمت وسربلندی اور استقامت وپائداری کادرس دیا۔لیکن دوسرے لحاظ سے دفاع مقدس کی یاد منانے کی اہمیت اس بات میں ہے کہ اقتدار ملت ایران،خود جارح دشمن کاجواب ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹرحسن روحانی کےمطابق اس جنگ کی یاد دہانی اس لحاظ سےبھی ضروری ہے کہ یہ جنگ جارح دشمن کومنہ توڑ جواب تھی۔ڈاکٹرحسن روحانی نے کہا کہ جولوگ سمجھتے ہیں کہ کسی ڈکٹیٹر کواشتعال دلا کر اور اسے فنڈ اوراسلحہ فراہم کرکے دینی اورعوامی انقلاب کوختم کرسکتے ہيں انھیں اس جنگ سے درس حاصل کرناچاہئے۔ایران کےخلاف عراق کی آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دور میں امریکہ اس کوشش میں تھا کہ صدام کےعلاقائی کردار اور امریکہ سے وابستہ عرب ممالک کےحکمرانوں کی مدد سے فائدہ اٹھاتے ہوئےایران کو انیس سواناسی کےانقلاب سے پہلے کی حالت میں پہنچادے گا ۔ایسا انقلاب جس نے علاقے پرمغرب کےتسلط کوچیلنج کردیا اورمشرق وسطی میں امریکی پالیسی کو درہم برہم کردیا۔ایران پرصدام حکومت کی جارحیت درحقیقت ایک ملک کےحقوق کی پامالی کا واضح مصداق اور اقوام متحدہ کےمنشور کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کی امریکہ بھی حمایت کررہا تھا۔ دشمنوں نے صدام کی سیاسی ، اقتصادی، اورخفیہ اطلاعات کی مدد کےساتھ ہی کیمیاوی اورممنوعہ ہتھیاروں تک سےمدد کی لیکن اپنےمذموم مقاصد حاصل نہ کرسکےاور ملت ایران کو گھٹنے ٹکوانے کی ان کی آرزو خاک میں مل گئي۔ اس کےباوجود امریکہ نے کچہ برسوں کے بعد گیارہ ستمبر دوہزار ایک میں نیویارک ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر مشکوک دہشتگردانہ حملہ کروا کے، دہشتگردی کےخلاف جنگ کے بہانے عالمی سلامتی کوخطرے میں ڈال دیا۔اوراقوام متحدہ کےمنشور کےبرخلاف پیشگی حملے کےمنصوبے کوعملی جامہ پہنانا شروع کردیاہے اور ملکوں کی سیکورٹی کوخطرے میں ڈال دیا ہے۔البتہ اس میں بھی کوئی شک نہيں ہے کہ امریکہ کا مقصد ہمیشہ مشرق وسطی کے تیل کے ذخائر پرقبضہ کرنارہا ہے۔اورمقدس دفاع کےبرسوں کی یاد منانے کا تیسرا مقصد اس نکتے پرتاکید ہے کہ ملت ایران کبھی بھی جارحین کےساتھ نہيں رہی اور وہ کھی بھی علاقے پرتسلط پسندی کی خواہاں نہيں رہی ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہيں ہے کہ وہ جارحین کوجواب دینے میں بھی کبھی پس وپیش نہيں کرےگی۔جیسا کہ صدرمملکت ڈاکٹرحسن روحانی نے کہا، ایران نے گذشتہ دوسوبرسوں کے دوران کبھی بھی کسی ملک پر جارحیت نہيں کی ہے اور اسلامی انقلاب کےدور سےلے کرآج تک اس نظام اورفوج نے کبھی بھی علاقے میں جارحیت سےکام نہيں لیا اورنہ لےگی لیکن جارحین کا منہ توڑ جواب دینے کےلئے ہمیشہ تیار رہی ہے اور رہے گی ۔
.......
/169